بخدمت اخویم مولوی محمد یوسف صاحب السلام علیکم
۶۶/۱۳۷ بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ نحمدہ ونصلی
محبی اخویم میاں عبداللہ صاحب سلمہ
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔ آپ کاعنایت نامہ پہنچا۔ لدھیانہ میں طاعون پیدا ہونے سے بہت اندیشہ ہوا۔ خداتعالیٰ خیر کرے۔ اس میں مسئلہ شرعی یہ ہے کہ اگر طاعون یا ہیضہ کی ایک دو وار دات ہوں۔ تو اس شہر سے نکلنا جائز ہے۔ لیکن اگر وبا پھیل جاوے۔ تو پھر نکلنا حرام ہے۔ چونکہ ابھی لدھیانہ میں وبا پھیلا نہیں ہے۔ اس لئے اخیتار ہے کہ وہاں سے جلد نکل جائیں۔ اس جگہ بڑی مشکل ہے کہ مکان نہیں ملتا۔ مگر اکثر لوگ شرارت سے دیتے نہیں۔ ہمارے گھر میں بیس کے قریب عورتیں بھری ہوئی ہیں۔ نواب صاحب بھی مع عیال و اطفال اس جگہ ہیں۔ سو اس گھر میں تو بالکل گنجائش نہیں اور دور میں شاید بہت تلاش کرنے سے کوئی ویران کوٹھ بے پردہ مل جائے تو تعجب نہیں۔ مگر شرفاء کے رہنے کے لائق تو کوئی نظر نہیں آتا۔ جب تک مکان کا پختہ بندوبست نہ ہووے۔ ہر گز قدم نہیں اٹھانا چاہئے تاعیال اور اطفال کو تکلیف نہ ہو۔ دوسرے یہ بات بھی سوچنے کے لائق ہے کہ طاعون کا دورہ ساٹھ ساٹھ اسّی اسّی برس ہوتا ہے۔ پس اگر طاعون لدھیانہ میں پھیل گئی تو یہ سمجھو کہ شاید اس صدی کے پورے ہونے تک پیچھا نہیں چھوڑے گی۔ یہ یقینی