مکتوب مبارک سے ظاہر ہے بیت اللہ میںاس دعا کے لئے تاکید کی تھی چنانچہ حضرت صوفی احمد جان رضی اللہ عنہ نے اپنی جماعت کے ساتھ بیت اللہ اور عرفات میں دعاکی۔
اس سال حج اکبر ہوا یعنی جمعہ کے دن حج سے فراغت پاکر بخیروعافیت جیساکہ حضرت اقدس نے تحریر فرمایاتھا۔ واپس تشریف لائے اور گیارہ بارہ روز زندہ رہ کر ۱۳۰۳ھ میںلودہانہ میں وفات ہائی۔یہ اس دعا کی قبولیت کا ایک نشان ہے۔حضرت اقدس نے منشی صاحب کی بخیروعافیت واپسی کے لئے دعا کی تھی۔اس دعا کی قبولیت تو ان کی مع الخیر واپسی سے ظاہر ہے اور یہی ثبوت ہے کہ دعا جواس خط میںدرج ہے۔وہ بھی قبول ہوئی اور بعد کے واقعات اور حالات نے اس کی قبولیت کا مشاہدہ کرادیا۔
کافی ہے سوچنے کو اگر اہل کوئی ہے
اس خط کے بوسیدہ ہوجانے کی وجہ سے کچھ حصہ اُڑگیا ہے۔جہاں نقطے دے دیئے ہیں۔ مگر یہ ضائع شدہ الفاظ مضمون کے مطالعہ سے معلوم ہوسکتے ہیں ۔تقاضا ئے ادب مجھے مجبور کرتاہے کہ میںان الفاظ کو( جو سیاق وسباق عبارت سے باآسانی سمجھ میں آسکتے ہیں) اپنی طرف سے نہ لکھوں۔ بہرحال حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی یہ دعا آپ کی سیرت آپ کے ایمان علی اللہ اورجوش تلیغ اور قبولیت دعا پر ایمان کے مختلف شعبوںکو ظاہر کرتی ہے ۔
(عرفانی کبیر)