یہ خط حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی سیرت میںایک مبسوط باب کامتن ہے ۔میںقارئین کرام سے باربار درخواست کروں گا کہ وہ اِس کو پڑھیںکہ کیا یہ اس کی تصویربن سکتی ہے ۔جس کو کاذب اور مفتری کہاجاتاہے؟ یااس ضمیر پر تنویر کامرقع ہے جو غیر فانی جوش اپنے قلب میںرکھتا ہے اور وہ اس شعور سے بول رہا ہے کہ خدا نے اسے کھڑا کیاہے اور اس کی زندگی کامقصد صرف ایک ہے کہ میرا مولی مجھ سے راضی ہوجائے اگر یہ صحیح ہے اور ضرور صحیح ہے تو اس کے بعد اس کی تکذیب سمجھ لو کیا نتیجہ پیدا کرے گی ۔یہی وہ دعاہے جن کے لئے خداتعالیٰ نے اس پر شعر الہام کہاہے ۔ دلم می بلر زد چو یاد آورم مناجات شوریدہ اندر حرم