۵۷/۱۲۸ (پوسٹ لفافہ) بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ نحمدہ ونصلی
محبی اخویم میاں عبداللہ صاحب سلمہ
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔ آپ اب تک نہیں آئے۔ مانع بخیر ہوا۔ اوّل منشی غلام قادر کی نسبت میرا یہ خیال تھا کہ بعض محبرب نسخے جو میرے والدصاحب سے مجھے یار ہیں اور ایسی بیماریوں کی نسبت گویا حکم اکسیر رکھتے ہیں۔ اس جگہ ان کو ٹھہرا کر استعمال کرائوں۔ لیکن بعد اس کے مجھ کو معلوم ہوا کہ اس جگہ وہ دوائیں تازہ بتازہ پیدا ہونا مشکل اورمحال کی طرح ہے اور کسی قدر ضعف ان کو زیادہ ہے۔ اس لئے اب تاخیر علاج میں کرنا ہرگز مناسب نہیں ہے۔ سو میرے نزدیک بہت مناسب ہے کہ وہ سنور میں ٹھہریں اور امید ہے کہ اس جگہ وہ دوائیں روز بروز تازہ بتازہ مل جائیں گی۔ یہ تجویز نہایت عمدہ ہے میں چاہتا ہوں کہ جہاں تک جلد ممکن ہو یہ تجویز کی جاوے۔ انشاء اللہ مجھے قوی امید ہے کہ خدا تعالیٰ شفاء بخشے۔ لہذا آپ کو مکلف ہوں کہ دوتین روز کے لئے آپ ضرور آجائیں۔ ہرگز توقف نہ کریں کیونکہ ان بیماریوں میں غفلت کرنا ہرگز مناسب نہیں۔ اپنا حرج کرکے بھی آجائیں اگر میں اس جگہ اس بات کو ممکن دیکھتا کہ یہ علاج باآسانی ہو سکتا ہے۔ تو آپ کو تکلیف نہ دیتا مگر اب یہی دیکھتا ہوں کے بغیر ان کو سنور رہنے کے یہ علاج ہو نہیں سکتا۔ ماسوا اس کے ان کی والدہ بھی نہایت ۔۔۔ میں ہیں۔ اس صورت میں ان کو بھی تسلی رہے گی تاکید یہی ہے کہ جلد آویں اوراگر کوئی ایسا مانع ہو توا پنی جگہ عبدالرحمن یا کسی اور کو