۵۱/۱۲۲ (پوسٹ کارڈ) بسم اللہ الرحمن۔ نحمدہ ونصلی
محبی اخویم میاں عبداللہ صاحب سنوری سلمہ
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔ ایک مدت کے بعد آپ کا محبت نامہ پہنچا۔ مقام ِ شکر ہے کہ خدا تعالیٰ نے آپ کو ہم و غم سے نجات بخشی۔ وہ غفور و رحیم ہے اور آخر بندوں پر رحم کرتا ہے اور جو آپ نے اپنی غفلت کا حال لکھا ہے۔ عزیز من درحقیقت نہایت خوف کی جگہ ہے۔ یہ زندگی جس کے ساتھ ہزار ہا بلائیں اور خوفناک مرضیں اور انواع وا قسام کی مصیبتیں لگی ہوئیں ہیں۔ وہ بجز خدا تعالیٰ کے رحم کے بسر نہیں ہو سکتی۔ پس ہر ایک رات اور دن میں خداتعالیٰ سے ڈرنااور اپنے اعضاء کو بدیوں سے بچانا جانگداز مصیبتوں سے بچنے کے لئے اس سے بہتر کوئی تدبیر نہیں۔ انسان کا وجود ایک طرفتہ العین کے لئے بھی اپنی زندگی کا مالک نہیں۔ رات کو ہنستا سووے اور دن کو روتا اٹھے۔ یہی دنیا کی وضع ہے۔ جس کی پناہ سے ہر دم گزرتا ہے۔ اگر وہی ناراض ہو تو پھر کیا ٹھکانا ہے۔ مناسب کہ بہت استغفار کرتے رہیں اور اللہ جلشانہ کی عظمت اپنے دل میں بٹھا دیں اور میں نے آپ کے تقوی اور استقامت ایمانی او رصراط مستقیم کے لئے دعا کی ہے۔ اللہ جلشانہ قبول فرمائے اور کبھی کبھی اگر رخصت مل سکے تو ضرور ملا کریں۔ رسالہ نورالقرآن جو اب چھپا ہے شاید آپ کو پہنچا ہو گا اور ایک کتاب نہایت لطیف چھپ رہی ہے۔ چونکہ عمر کا اعتبار نہیں۔ معلو م نہیں کہ کس وقت اس کائنات عالم سے گزر جائیں۔ اس لئے