جب اپنے حلقہ میں چلا گیا تو اس کے پندرہ بیس روز کے بعد اپنا ایک خاص آدمی میرے پاس بجھوا کر مجھے اپنے پاس بلوایا اور ایک اپنا خاص اعتباری نج کا کام میرے سپرد کر دیا اور مجھ کو برکمان اپنے پاس رکھ لیا اور میری جگہ پر میری خواہش اور درخواست کے مطابق میرے ایک شاگرد عزیز عطاء الہی کو جو غوث گڈھ کا رہنے والا ہے۔ اس حلقہ غوث گڈھ پر میرا قائم کردہ مقام پٹواری کر دیا۔ میں نے اللہ تعالیٰ کے فضل سے اس کام کو عرصہ ایک سال میں بہت عمدگی کے ساتھ سر انجام دیا۔ جس سے اسے بہت ہی خوشی ہوئی اس عرصہ میں اس وقت کی موجودہ تنخواہ سے دو چند سے بھی زیادہ تھی بغیر میری خواہش اور اطلاع کے مجھے ترقی دلا دی اور اس کی منظوری بھی لے لی۔ اس کے بعد مجھے اس نے اطلاع دی۔ لیکن یہ بات مجھے پسند نہ آئی۔ کیونکہ میں غوث گڈھ ہی میں رہنا پسند کرتا تھا جب اس کی منشا کے مطابق میں اس کے کام کو سرانجام دے چکا اور اس سے فارغ ہو گیا۔ تو چونکہ وہ کام اس کے بہت بڑے دنیوی فائدہ کا تھا۔ اس لئے وہ بہت خوش تھا اور اس موقع پر اس نے نوکروں کو انعامات دئیے۔ اس پر کہا اچھا کیا چاہتے ہو میں نے کہا کہ آپ مجھے خوشی سے علاقہ غوث گڈھ میں عہدہ پٹوار پر ہی واپس کر دیں۔ میں ترقی لینا نہیں چاہتا اس پر وہ ہنس پڑا اور کہنے لگا کہ تو تو بیوقوف ہے۔ تیرے ساتھ میں بھی بیوقوف بن جائوں۔