مجھے مکرر حکم بھیج دیا میں اس اعتکاف توڑ کربسی میں حاضر عدالت ہو گیا۔ دو مہینہ بھر میں وہاں ہر روز کچہری میں پورے وقت کے لئے حاضر ہوتا رہا۔ کوئی پیشی نہ ہوئی۔ جس پر میرے ایک عزیز بھائی ہاشم علی صاحب زراہ ہمدردی میرے وہاں بسی میں پہنچے اور مجھ سے کہا کہ اس طرح تو معلوم نہیں آپ کو کب تک یہاں بیٹھے رہنا پڑے۔ میں اس ناظم کے کسی رشتہ دار کی اس کے پاس سفارش لے آتا ہوں۔ یہ حاضر کرے گا۔ میں نے انہیں جواب دیا کہ آپ مجھے اس بارہ میں حضرت اقدس علیہ الصلوٰۃ والسلام سے اجازت لے لینے دیں۔ اس کے بعد جس طرح پرارشادہو گا کریں گے چنانچہ میں نے حضور کی خدمت میں اس بارہ میں مفصل عریضہ لکھ دیا اور اس میں لکھا کہ اگر حضور اجازت دیں تو اس کے پاس کسی کی سفارش کر الی جائے میرے اس عریضہ کے جواب میں حضور نے یہ خط نمبر ۴۷ خاکسار کو لکھا جس میں یہ بشارت تھی کہ اس کے لئے ’’حضرت باری عزاسمہ میں تہجد میں دعا کی گئی‘‘۔ مجھے اس والا نامہ کے پہنچتے ہی اطمینان ہو گیا اور میں نے منشی ہاشم علی صاحب کو کہہ دیا کہ اب کسی سفارش کی ضرورت نہیں۔ کیونکہ حضرت صاحب نے خداتعالیٰ کی جناب میں سفارش فرما دی ہے اور مجھے اطمینان ہو گیا ہے کہ اب میرا کام بن گیا ہے۔ اس کے بعد منشی ہاشم علی صاحب واپس چلے گئے اور اس سے تین چار روز بعد میری پیشی ہو گئی۔ ناظم صاحب نے اظہار افسوس کے ساتھ اپنے حکم کو واپس لیااور مجھے کام پر واپس حاضر کر دیا اور ایام معطلی کی تنخواہ بھی دلا دی اور پھر اسی پر بس نہیں کی۔ بلکہ میں