اس وقت نہایت کم فرصتی ہے اس لئے کم لکھا۔
والسلام
خاکسار
غلام احمد
۲۶؍فروری ۱۸۹۴ء
۴۴/۱۱۵ (پوسٹ لفافہ ) بسم اللہ الرحمن الرحمن۔ نحمدہ و نصلی
محبی عزیزی اخویم میاں عبداللہ صاحب سلمہ
السلام علیکم ورحمۃ وبرکاتہ۔ میں بوجہ علالت طبیعت جلدی سے جواب نہیں لکھ سکا۔ جو کچھ آپ نے مجھ سے مشورہ لینا چاہا ہے۔ میری دانست میں اس کام میں بہت احتیاط اور سوچ لینا چاہئے اور میری دانست میں جب تک آپ نہ دیکھ لیں۔ جلدی نہیں کرنا چاہئے۔ بوجہ علالت زیادہ لکھ نہیں سکا۔ مگر اس بات کو خوب یاد رکھیں۔
والسلام
خاکسار
غلام احمد
بخدمت اخویم سید محمد شاہ صاحب السلام علیکم
از قادیان۔ ۲۵؍مارچ ۱۸۹۴ء
(نوٹ) یہ مشورہ مولوی عبداللہ صاحب نے ایک جگہ پر اپنے نکاح ثانی کے متعلق بذریعہ عریضہ حضور سے لیا تھا۔ جس کی تاریخ نکاح ۲؍شوال ۱۳۱۱ء بھی اور دو سو روپیہ مہر بھی مقرر ہو چکا تھا۔ مولوی صاحب فرماتے ہیں کہ میں نے مخص بترگا حضور سے اس بارے میں مشورہ طلب کیا تھا اور اپنے عریضہ میں ظاہر بھی کر دیا تھا کہ تمام امور طے ہو چکے ہیں۔ صرف تبرک کے لئے حضور سے مشورہ طلب کیا ہے۔ جس پر حضور نے یہ جواب لکھ کر خود اپنی آنکھوں سے دیکھ لینے کی اشد تاکید فرمائی۔ چنانچہ میں حضور کے ا س ارشاد کی بناء پر رمضان شریف