آپ عنقریب اس کو مطالعہ کر یں گے۔ بعد اس کے کہ مطبع سے نکلتا ہے۔ آپ کے پاس بھیج دیا جائے گا اور سب طرح فضل الٰہی سے خیریت ہے۔
راقم مرزا غلام احمد
از قادیان
مورخہ ۲۹؍ دسمبر ۱۸۹۰ء
(یہ خط بھی حضرت اقدس کا اپنے ہاتھ سے لکھا ہوا نہیں ہے بلکہ کسی او رشخص کے ہاتھ کا لکھا ہوا ہے۔ )
۳۴/۱۰۵ (پوسٹ کارڈ) نحمدہ ونصلی
محبی اخویم منشی عبداللہ صاحب سلمہ
السلام علیکم رحمۃ اللہ وبرکاتہ کے بعد مدعا یہ ہے کہ خط مرسلہ آپ کا آیا۔ حال معلوم ہو ا۔ آپ کے کام ؎کا انتظام درپیش ہے آپ تسلی رکھو اور دعا بھی کروں گا۔
والسلام خیر الختام۔
۲؍ جنوری ۹۱ء
مرزا غلام احمد از قادیان
از بندہ خدا بخش جالندھری شیخ حافظ حامد علی السلام علیکم
(اور یہ خط نمبر ۳۳ بھی مثل خط نمبر ۳۲ حضور کا اپنے دست مبارک کا لکھا ہو انہیں ہے)
۳۵/۱۰۶ (پوسٹ کارڈ) بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ نحدہ و نصلی
محبی اخویم میاں عبداللہ صاحب سلمہ
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔ دس روپیہ آپ کے پہنچ گئے۔ جزاکم اللہ خیرا۔ آپ کے تفکر پیش آمدہ کی نسبت ضرور تحریر فرماویں۔