۱۸/۸۹۔(رجسٹرڈ پوسٹ لفافہ)
(یہ مکتوب کشتی پہلے درج ہوچکا ہے)
(منقول از نسخہ منقولہ جو خود حضرت اقدس علیہ الصلوٰ ۃ والسلام نے نقل کروا کر اس کے آخر پر خود دست مبارک سے حسب ذیل کلمات تحریر فرمائے۔ بسم اللہ الرحمٰن الرحیم۔ نحمدہ نصلی۔
مشقی اخویم میاں عبدٰاللہ صاحب سلمہ
السلام و علیکم ورحمتہ اللہ و برکاتہ،۔ میں نے مناسب سمجھا کہ ایک نقل جواب مولوی حکیم نورالدین صاحب آپ کی خدمت میں روانہ کروں۔ سو بھیجتا ہوں۔ باقی خیریت ہے۔ ہمیشہ اپنے حال خیریت آل سے مطلع کرتے رہیں۔
والسلام
خاکسار
غلام احمد از قادیان
۲۸؍نومبر ۱۸۸۸ء
۱۹/۹۰۔ (پوسٹ)۔ عزیزی اخویم میاں عبٰد اللہ صاحب سلمہ
السلام و علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ، آپ کا عنائت نامہ پہنچا۔ آپ کی رویا انشاء اللہ القدیر نہایت عمدہ ہے۔ بہر حال جلد یا دیر سے ا س کا ظہور ہو جائے گا۔ انشاء اللہ تعالیٰ میں رفع و ساوس خام طبع لوگوں کے لئے چند اشتہار چھپوا وے ہیں۔ امرتسر میں چھپ رہے ہیں جب آئیں گے۔ تو اشتہار پہنچ جائے گا۔
والسلام
خاکسار
غلام احمد از قادیان
۱۷؍دسمبر ۱۸۸۸ء