۱۶/۸۷ (پوسٹ کارڈ ) بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ نحمدہ ونصلی علیٰ رسولہٰ الکریم مشفقی مکرمی اخویم میاں عبداللہ صاحب سلمہ اللہ تعالیٰ السلام علیکم ورحمۃاللہ وبرکاتہ۔ عنایت نامہ پہنچا۔ بشیر احمد سخت ہو گیا تھا۔ یہاں تک کہ تین مرتبہ اس پر ایسی حالت آئی کہ معلوم ہوتا تھا کہ گویا آخری دم ہے۔ مگر بفضلہ تعالیٰ بہت آرام ہے۔ میاں اسمٰعیل کے وفات فرزند محل غم واندوہ ہے۔ انا اللہ وانا الیہ راجعون۔ اسمٰعیل بیچارہ پر پڑا صدمہ ہوا۔ خدا تعالیٰ اسے صبر بخشے۔ میں نے ایک اشتہار آپ کی خدمت میں بھیجا تھا۔ یقین کہ پہنچ گیا ہو گا۔ ہمیشہ خیرو عافیت سے مطلع فرماتے رہیں۔ والسلام خاکسار غلام احمد از قادیان ۱۱؍ اگست ۱۸۸۸ء ۱۷/۸۸ (پوسٹ کارڈ ) بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ نحمدہ ونصلی مشفقی عزیزی اخویم میاں عبداللہ صاحب سلمہ السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔ کل کی ڈاک میں آپ کا خط پہنچ کر موجب خوشی وخرمی ہوا۔ میں آپ کے اخلاص اورمحبت سے شکر گذار ہوں۔ جزاکم اللہ خیرا۔ آج چند اشتہار بھیجے جاتے ہیں اور سب طرح سے خیریت ہے۔ بشیر احمد بفضلہ تعالیٰ صحیح و تندرست ہے۔ گویا نئے سرے اللہ تعالیٰ نے اس کے قالب میں جان ڈالی ہے۔ مولوی محمد یوسف صاحب و دیگر احباب کو السلام و علیکم خاکسار غلام احمداز قادیان ۲۳؍اگست ۱۸۸۸ء