ہر گز نمیرو آں کہ دلش زندہ شد بعشق ثبت است بر جریدہ عالم دوام ما (۲۸؍مارچ ۸۴ء م ۲۹؍ جمادی الاوّل ۱۳۰۱ھ) (نوٹ ) اس مکتوب سے ظاہر ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے دل پر محبت وعظمت الٰہی کابے انتہا غلبہ ہے اور اپنی فرو تنی مسکینی اور خاکساری کاکمال نمایاں ہے انہی تفضلات اور انعامات پر شکر گزاری کی روح آپ کے اندر بول رہی ہے اور جو عشق ومحبت آپ کوحضرت باری غراسمہ سے ہے اس کی صداقت اس الہام باری سے ہوتی ہے جو اس مکتوب کی تحریر کے بعدآپ کوہوا ۔ ہرگز نمیرو آں کہ ولش زندہ شد بعشق ثبت است بر جریدہ عالم دوام ما یہ الہام حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی غیر فانی اور اَبدی زندگی اور دنیا میںشہرت دوام اور امٹ ہونے کی عظیم الشان پیشگوئی کولئے ہوئے ہے۔آج ساٹھ برس بعد اس کی شہادت روئے زمین کے بسنے والے ہر ملک اور ہرقوم میںدے رہے ہیں اور دنیا کی ہر زبان میں یہ نام مبارک پہنچ چکا ہے۔اللھم صلی علی محمد وعلی آل محمد وبارک وسلم۔ ّ(۴) از عاجز عاید باللہ الصمد غلام احمد ،با اخویم مخدوم ومکرمی منشی احمد جان صاحب سلمہ اللہ تعالیٰ۔ بعد السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ عنایت نامہ آں مخدوم پہنچا۔اس عاجز کی غرض پہلے خط سے حج بیت اللہ کے بارے میںصرف اسی قدر تھی کہ سامان سفر میسر