(۳) مخدومی مکرمی اخویم منشی احمد جان صاحب سلمہ اللہ تعالیٰ۔ وجزاکم اللّٰہ خیرا لجزاء۔ السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ آں مخدوم کاعنایت نامہ پہنچا۔ خداوند کریم کے احسانات کاشکر ادا نہیںہوسکتا جس نے اس احقرا لعباد کے لئے ایسے ولی احباب میسرکیے۔ جن کاوجود اس ناچیز کے لئے موجب عزت وفخر ہے۔ خداوند کریم آپ کوخوش وخرم رکھے اور آپ کو ان دلی توجہات کااجر بخشے ۔یہ عاجز سخت ناکارہ اور حقیر ہے اور حضرت ارحم الراحمین کاسراسر منت اور احسان ہے کہ اس نالائق پر بغیر ایک ذرہ استحقاق کے تفضلات کثیرہ کی بارش کررہاہے قصور پر تصور پاتا ہے اور احسان پر احسان کرتاہے اور ظلم پرظلم دیکھتا ہے اورانعام پر انعام کرتاہے۔فی الحقیقت وہ نہایت رحیم وکریم ہے۔ ایسی زباںکہا ںسے لائو ںجو اس کاشکر ادا کرسکوں ۔یہ عاجز ہیچ ذلیل اور بے بضالت اور سراسر مفلس ہے۔ اس نے خاک میںمجھے پایا اور اُٹھا لیا اورنالائق مخلص دیکھا اور میری پردہ پوشی کی۔ میرے ضعف پرنظر کرکے مجھ کو آپ قوت دی اور میری نادانی کو دیکھ کر مجھ کوآپ علم بخشا۔ میرے حال پروہ عنایتیں کیں جن کومیں گن نہیں سکتا اوراس کی عنایات کاایک یہ ظہور ہے کہ آپ بزرگ بھائیوں کے دلوں میں اس احقر کی محبت ڈال دی۔ سو اس کے احسانات سے تعلق ہے کہ اس حب کوترقی دے گا اور ان سب پر فضل کرے گا جن کو اس مُلک میںمنسلک کیا ہے۔ اس خط کے تحریر کے بعد یہ شعر کسی بزرگ کاا لہام ہوا ۔