دئیے جو اس نوٹ کے شروع میں درج کئے جا چکے ہیں۔ا س نشان کی طرف حضرت صاحب نے حقیقۃ الوحی میں میر اذکر کر کے اشارہ فرمایا ہے ا س کے بعد اس نے اس لڑکی کا کسی دوسری جگہ نکاح کر دیا جس سے مجھے ازسر نو پریشانی ہوئی۔ اس بات کی حضور کو اطلاع پہنچ گئی۔ جس پر حضور نے یہ خظ نمبر ۱۲ لکھ کر مجھے اپنے پاس بلا لیا جب اس نے اس لڑکی کا دوسرا نکاح کر دیا تو اس کے بعد یہ واقعات اس کو پیش آئے کہ پہلے اس کا سب سے بڑ ااور نوجوان لڑکا مر گیا۔ جس سے اسے بہت ہی صدمہ پہنچا۔ اس کے بعد ا س کا پوتا چھوٹی عمر کا جو اسے بہت عزیز تھا۔ مر گیا۔ اس کے بعد اس کا دوسرا نوجوان لڑکا مر گیا۔ اس کے بعد اس کی اسی بیوی کا انتقال ہو گیا اور ان سب واقعات وفات دیکھ کر آخر وہ خود بھی مر گیا اور اس کے مرنے کے بعد اس کی لڑکی کا خاوند بھی ایک لڑکا اور ایک لڑکی چھوڑ کر مر گیا اور وہ لڑکی بیوہ ہو گئی۔ میری دوسری شادی اس شخص کی زندگی میں ہی حضور نے ایک جگہ کرا دی تھی۔ جو فریقین کے لئے بفضلہ تعالیٰ بہت ہی مبارک ثابت ہوئی۔ جب اس نے اس بات کو مشاہدہ کر لیا اور نیز اس پر مذکورہ بالا صدمات آئے تو وہ اپنے انکار پر بہت پچھتایا اورمجھے کہا کہ آپ بذریعہ خط حضرت اقدس کے پا س میرے لئے سفارش کریں کہ حضور مجھے معافی دے دیں اور میری بیعت منظور فرماویں۔ چنانچہ میںنے حضورکی خدمت میں اس کی معافی اوربیعت کے لئے خط لکھ دیا۔ حضورنے اس کی بیعت منظور فرمالی۔