والے اور اس الہامی اطلاع کے بعد اس شخص کی طرف سے بھی نفی میں جواب آ گیا۔ جس پر مجھے بہت گھبراہٹ ہوئی اور اس رشتہ سے نومید ہو گیا۔ او رحضور کی خدمت بھی عرض کیا کہ اب کوشش بے فائدہ ہے کیونکہ نہ صرف ان کی طرف سے انکار ہوا ہے۔ بلکہ الہام کے ذریعہ سے بھی معلوم ہو چکا ہے کہ اس میں کامیابی نہیں ہو سکتی تو حضور نے فرمایا کہ نہیں ہم کوشش نہیں چھوڑتے بلکہ اب ہم خود اسے کہیں گے او رفرمایا کہ جو تجویزیں اور تدبیریں ہم نے اختیار نہیں کی تھی۔ ان میں بھی ناکامی ہو چکی ہے او رممکن ہے کہ کسی اور طریق سے اللہ تعالیٰ ہمیں کامیاب کر دے۔ کیونکہ کل یوم ھو فی شان بیرون اس کی نزالی شان ہوتی ہے۔ اس سے چند روز بعد حسن اتفاق سے ایک جگہ پر حضور کی خدمت میں حاضر ہوا۔ حضور عشاء کی نماز کے بعد چارپائی پر لیٹے ہوئے تھے او رچند معزز خدام بھی حاضر خدمت تھے۔ جن میں وہ شخص بھی تھا۔ حضور نے ان احباب سے فرما دیا تھا کہ اب آپ لوگ آرام کریں ہمیں ان سے کچھ باتیں کرنی ہیں وہ ولوگ اٹھ کر چلے گئے اور وہ شخص اٹھ کر حضور کے پائوں دبانے لگ گیا۔ پیشتر اس سے کہ حضور کے ساتھ گفتگو شروع کرتے۔ کشف میں حضور نے دیکھا کہ اس شخص نے حضور اس کے بائیں ہاتھ کی ہتھیلی پر دست (اسہال) پھر دیا اور پھر کشف ہی میں حضور نے دیکھا کہ اس کی دائیں ہاتھ کی انگشت شہادت کٹ گئی ہے۔ حضور نے فرمایا کہ جب مجھے کشف ہوا تو میں اس وقت سمجھ گیا تھا کہ اس معاملہ میں مجھے نہایت گندہ جواب دے گا۔ چنانچہ اس نے حضور کو ایسے ہی جواب