(نوٹ)حضرت مولوی عبداللہ صاحب نے فرمایا کہ ایک خاص جگہ پر نکاح ثانی کا ارادہ تھا۔ جس کے لئے میں کوشش کر رہا تھا چونکہ اس لڑکی کا والد حضرت اقدس علیہ الصلوٰۃ والسلام کا معتقد تھا۔ اس لئے حضور نے بھی اس کے لئے بہت کوشش کی اور لڑکی کے والد کو خود حضور نے بڑے زور سے کہا اور جو جو عذر وہ پیش کرتا رہا۔ ان سب کی حضور نے تردید کی او رآخر یہاں تک فرما دیا کہ ان سب باتوں کا مجھے آپ ضامن سمجھیں۔ مگر اس نے اپنی بیوی کی ناراضگی کا عذر کر کے صاف انکار کر دیا۔ جس پر حضور فرماتے تھے کہ مجھے بہت رنج ہو ااور میں چاہتا ہوں کہ تازیست اس کی شکل نہ دیکھوں چنانچہ ایسا ہی ہوا اور اس کے بعد اسے حضور کی زیارت نصیب نہ ہوئی۔ جب حضور نے مجھے اس گفتگو کا واقعہ سنایا تو فرمایا کہ یہ کہتا ہے کہ میر اخدا اور رسول او رمیرا پیر میری ماں ہے جس جگہ وہ کہے گی۔ وہاں کروں گا۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ حضور نے نکاح ثانی کے بارہ میں اللہ تعالیٰ اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد جو ایک سے زیادہ نکاح کے متعلق ہے۔ اسے سنایا اور نیز اسے خود بھی اس کے متعلق ارشاد فرمایا۔ جسے اس نے اپنی بیوی کی وجہ سے ڈر کر صاف انکار کر دیا۔ حضور کی اس کوشش سے قبل جب حضور نے اس بات کے لئے دعا فرمائی تھی تو حضو ر کو اس بارہ میں تین الہام ہوئے تھے (۱) ’’ناکامی ‘‘(۲) اے بسا آرزو کہ خاک شدہ (۳) فصبر و جمیل‘‘۔ ہاں اس سے قبل حضور نے اس رشتہ کے لئے اس شخص کو خط لکھا تھا۔ جس کے بعد حضور کو الہام ہوا ’’ناکامی‘‘ پھر بعد