کہ جب تک یہاں رہ کر کام کرے بیس روپیہ ماہوار اور کھانا اسے دیا جایا کرے گا۔ ۱۱/۸۲ (پوسٹ کارڈ) بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ نحمدہ ونصلی اخویم مکرم میاں عبداللہ صاحب سلمہ السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔ آپ کا عنایت نامہ پہنچا۔ میں اس وقت بوجہ کثرت کا ر اس قدر کم فرصت ہوں کہ بیان نہیں کر سکتا۔ تمہارے لئے کئی دفعہ دعا کروں گا کہ اللہ جل شانہ مشکل پیش آمدہ سے مخلصی عطا فرماوے۔ بخدمت مولوی صاحب سلام مسنون کہہ دیں۔ خاکسار غلام احمد عفی عنہ ۳۰؍ جون دسمبر ۱۸۸۶ء از قادیان (نوٹ) مولوی محمد یوسف صاحب جو مولوی عبداللہ صاحب کے ماموں تھے۔ ۱۲/۸۳ (پوسٹ کارڈ) بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ نحمدہ ونصلی السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔ مناسب ہے کہ چند روز یا اگر فرصت ہو تو ایک دو ماہ کے لئے اس جگہ آجائو تا حال خیال ہو۔ اللہ جل شانہ کے ہر کام میں اسرار اور مصالح ہیں۔ بہشت کے وارث وہی متقی ہیںجو دنیا کا دوزخ اپنے لئے قبول کرتے ہیں۔ خدا راضی کن تا جہاں از تو راضی شود۔ والسلام خاکسار غلام احمد عفی عنہ بخدمت مولوی محمد یوسف صاحب سلام مسنون تاریخ مہر ڈاک خانہ قادیان ۸؍ فروری ۸۷ء