(نوٹ) جس رات نہایت کثرت کے ساتھ ستارے ٹوتے تھے۔ ان کو دیکھ کر مولوی عبداللہ صاحب نے حضور کی خدمت میں بذریعہ عریضہ ان کے متعلق استفار کیا تھا۔ جس کے جواب میں حضور نے یہ نوازش نامہ مولوی صاحب موصوف کو لکھا۔ ۱۰/۸۱ (پوسٹ کارڈ) بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ نحمدہ و نصلی۔ مشفقی میاں عبداللہ صاحب بعد سلام مسنون۔ میں نے مناسب سمجھا ہے کہ چونکہ کام ابھی دس پندرہ روز کا معلوم ہوتا ہے۔ اس قدر عرصہ تک آپ کا امرتسر میں ٹھہرنا بے فائدہ ہے۔سو بالفضل واپس چلے آویں اور مفصلہ ذیل چیزیں خرید کر لے آویں۔ پھولیل عمدہ۔ انگریزی چونہ درز عمارت مسجد بند کر نے کی ۲ پیسہ تیل مٹی۔برف۔ انار عمدہ شیریں۔ اگر انار عمدہ ملیں تو تین انار لیتے آنا۔ ورنہ خیر اور آج تنخواہ میں بیس روپے منشی امام الدین صاحب کو بھیجے گئے ہیں۔ اگر دو تین روپیہ کی ضرورت ہو تو ان سے لے لینا اور پیسہ تیل مٹی بٹالہ میں بر مکان مولوی غلام علی صاحب جو ذیل گھر میں رہتے ہیں۔ چھوڑ آنا۔ یہاں سے کوئی آتا لے آئے گا۔ غلام احمد عفی تاریخ مہر ڈاک خانہ قادیان ۲۷؍ جولائی ۸۶ء (نوٹ) منشی امام الدین صاحب حضور کے کاپی نویس تھے۔ جن کی تنخواہ بیس روپیہ ماہوار حضور کی طرف سے مقرر تھی۔ اسی طرح پر کہ جب ضرورت ہوئی تو اسے امر تسر سے یہاں بلا لیا جاتا تھا اور بلانے پر آجاتا۔ معاہدہ کے رو سے اس کا فرق ہوتا تھا معا ہدہ یہ تھا۔