۸/۷۹ (دوستی خط) بنام مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی
از عاجز عائذ باللہ الصمد غلام احمد
بخدمت اخویم مخدوم و مکرم مولوی صاحب۔ بعد السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔ عنایت نامہ آں مخدوم پہنچا۔ اگر چہ ڈمئی کاغذ کی کتابیں اب شاید تین چار باقی ہیں۔ اور اندر میں بہت ضائع ہو گئیں۔ لیکن آپ کی تاکید کے لحاظ سے بھیجی جاتی ہیں طبیعت اس عاجز کی بد ستور ہے۔ چونکہ اس جگہ مہمانوں کی ا س قدر کثرت ہے کہ اکثر وقت ان کی ملاقات میں خرچ ہوتا ہے۔ اس لئے یہ عاجزتردد میں ہے کہ ترتیب و تالیف حصہ پنجم کے لئے کس طرح فر صت نکالی جائے۔ بار ہا یہ دل میں گزرتا ہے کہ کسی ایسی طرف چلا جائے کہ جس میں کوئی پر سانہ ہو تا خاطر خواہ فراغت سے محنت اور کوشش کی جائے مگر ابھی تک کوئی جگہ قائم نہیں ہوئی۔ آپ نے جس قدر سعی او رتوجہ کی ہے اس کے صلہ میں رسمی شکر گزاریوں سے درگزر کر کے یہ چاہتا ہوں کہ حضرت مولا کریم عزاسمہ و جل شانہ آپ کی اس خدمت کو اپنی رضا مندی اور خوشنودی کا موجب کرے کہ انسان کے لئے یہ بڑی مہم عظیم ہے کہ اس کا مالک اس پرراضی ہو جائے۔ یہی فوز عظیم ہے جس کو بذریعہ مخلصانہ عملوں کے طلب کرنا چاہئے۔ خدا ہم کو اور آپ کو اس سے متمتع فرما وے۔
والسلام
خاکسار
غلام احمد
۹/۸۰ (پوسٹ کارڈ) السلام علیکم۔ میری دانست میں اشاعت ہدایت کی طرف اشارہ ہے۔ واللہ اعلم۔ خاکسار غلام احمد عفی عنہ از قادیان ۲؍ دسمبر ۸۵ء