کہ میاں فتح محمد خاں انبالہ کی طرف جائیں گے او ر اسی انتظار میں بیٹھے ہیں۔ مگر توقف نہوفی الفور چلے آویں اور دوہزار اشہتار لے آویں۔
والسلام
خاکسار
غلام احمد از قادیان
(نوٹ) یہ خط بھی حضور نے ۹؍ فروری ۱۸۸۵ء کو ہی لکھ کر مولوی عبداللہ صاحب کے نام ارسال فرمایا تھا۔ جو ۱۰؍ فروری کو لاہور میں پہنچا۔ جیسا کہ ڈاک خانہ کی مہر سے بھی ثابت ہوتا ہے۔
۷/۷۸ (پوسٹ کارڈ) یکم مارچ ۱۸۸۵ء
از عاجز احمد بعد سلام مسنون۔ مناسب ہے کہ آپ جلد تر کچھ خطوط مطلوعہ ساتھ لے کر (اگر سب کا لانا ممکن نہ ہو) آجائیں کہ بہت دیر مناسب نہیں اور بر وقت آنے کے اشیاء مفصلہ ذیل ساتھ لاویں۔ پان عمدہ۔ کاتھ۔ چونہ۔ تمباکو زردہ جو پان میں کھاتے ہیں۔ مہندی دسمہ۔ یہ سب خرچ اور جو اپنے لئے ضرورت ہو۔ منشی الٰہی بخش صاحب سے لے لیں اور کل خرچ کا حساب ساتھ لے آویں اگر تین روز اور ٹھہر کر کام ہو سکتا ہو تو ٹھہر جائیں۔ ورنہ آ جائیں۔ بخدمت منشی الٰہی بخش صاحب سلام مسنون۔
خاکسار غلام احمد