یہ سمجھا کہ مجھ کو بلعم یا عور بنایا گیا۔ اس غصے میںبیچ وتاب کھاتاہوا آخر و ہ یہاںسے چلاگیا۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے انہی ایام میں ضرورت امام شائع کی لیکن وہ بھی الٰہی بخش کے زیغ کاعلاج نہ کرسکی۔بلکہ یضل بہ کثیراکاباعث ہوگئی۔آخر وہ اس سلسلے سے کٹ گیا اوراس نے مخالفت پر قمر باندھی۔مگر اس کا جو درد ناک انجام ہوا۔وہ بہت عبرتناک ہے اس کاکچھ ذکر میرے مکر م ومحترم مخلص بھائی بابو فضل دین صاحب اوور سیرنے ایک عینی شاہد کی حیثیت سے لکھا ہے۔میرا مقصد اس واقعہ کے بیان کرنے سے صرف اس قدر ہے کہ انسا ن اپنی خدمات پر نہ اِتراے بلکہ مومن کاخاصہ ہے کہ جس قدر اسے نیکی کی توفیق ملتی ہے اُسی قدر وہ شرمندہ ہوتا ہے۔ اس میںکچھ شک نہیں کہ ان لوگوں نے حضرت کے ابتدائی زمانے میںبڑی خدمات کیں مگر خدا جانے کہ ان کے ساتھ ان کے نفس کی کیسی بُری ملونی تھی کہ ان کاخاتمہ قابل افسوس ہوا۔منشی عبدالحق کی طبیعت الٰہی بخش سے مستغائر واقع ہوئی تھی۔مگر اسے اس کی دوستی نے تباہ کیا۔ بابو محمد صاحب آخیر وقت تک سلسلے میںرہے گو اُن کو کچھ شکوک سلسلے کے بعض اخراجات کے متعلق پیدا ہوگئے تھے۔ انہوں نے کبھی تعلق کونہ توڑ ا او ر آخیر وقت تک اسے قائم رکھا پس مقام خوف ہے۔انسان اپنی نیکی اور خدمت پر اِترائے نہیں اور ہمیشہ حسن خاتمہ کے لئے دعا کرتارہے ۔اس مقصد سے میںنے عبرت انگیز واقعہ کولکھا۔ (عرفانی )