میں ہے۔ سو جان پور کے طرف نہیں گیا۔ اسی اثناء میں حضور کو اللہ تعالیٰ کے طرف سے یہ الہام ہوا کہ ’’تمہاری عقدہ کشائی ہوشیار پور میں ہوگی‘‘ اس لئے حضور نے سو جان پور کی طرف جانے کا اراہ ملتوی کر کے ہوشیار پور جانے کا ارادہ فرما لیا۔ چنانچہ اسی بناء پر حضور شروع جنوری ۱۸۸۶ء میں مولوی عبداللہ صاحب حافظ حامد علی صاحب اور ایک شخص فتح خاں انام وک اپنے ہمراہ لے کر سیدھے ہوشیار پور کو روانہ ہو گئے اور وہاں پہنچ کر شیخ مہر علی صاحب رئیس (جو اس وقت حضور سے محبت اور اخلاص رکھتے تھے) کے طویلہ میں جا کر چالیس روز تک ایک بالا خانہ میں بالکل الگ رہے۔ حضور کے ہر سہ خدام رفقاء اسی طویلہ میں نیچے کے حصہ میں الگ رہتے تھے۔ چنانچہ وہاں حضور نے چلہ کشی کی او رپھر ۲۰ روز وہاں اور ٹھہر کر مارچ ۱۸۸۶ء میں واپس قادیان کو تشریف لائے۔
ہندوستان کی سیر ۱۸۸۹ء میں آکر حضور نے صرف اس قدر کی کہ لدھیانہ میں بیعت لینے کے بعد علی گڑھ تشریف لے گئے او روہاں ایک ہفتہ کے قریب سید تفضل حسین صاحب تحصیلدار کے ہاں ٹھہر کر وہاں سے پھر واپس لدھیانہ تشریف لائے۔
۲/۷۳ (پوسٹ کارڈ) مشفقی اخویم سلمہ
بعد سلام مسنون۔ آپ کا عنایت نامہ پہنچا۔ یہ عاجز کچھ دنوں سے بیمار ہے طاقت زیادہ تحریر کی نہیں۔ ضعف بہت سا ہو رہا ہے۔ مگر آپ کی خوابیں انشاء اللہ نیک ہیں جائے فکر نہیں۔ مفضل لکھنے کی