رکھتاہوں۔ یہ لوگ مولوی عبداللہ غزنوی رحمتہ اللہ علیہ کے ملنے والوں میںسے تھے ۔جہاں تک ظاہر کاتعلق ہے ا ن کی زندگیاں حتی الوسع شریعت کے مطابق تھیں۔ صوم وصلوٰۃکے پابند تھے۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ابتدائی زمانے میں فدائیوں میںسے تھے اور ہرخدمت کوبجالانا اپنی سعادت اور خوشی بختی سمجھتے تھے بعض حالتوں میں طبع کتب کے سلسلے میں یا اور ایسی ہی دینی ضرورتوں کے لئے حضرت اقدس منشی الٰہی بخش یا عبدالحق سے قرض بھی لے لیاکرتے تھے۔ ا س وقت وہ اپنے اخلاص میں بے نظیر تھے۔لیکن حضرت کے دعو ے مسیحیت کی ابتداء تک ان کی یہی حالت چلی گئی۔ منشی الٰہی بخش صاحب کوا لہام ہونے کادعویٰ تھا لیکن ان کی طبیعت میں خشونت اور ضد بے حد تھی۔ رفتہ رفتہ ان میںتکبر اور رعونت پید اہونے لگی۔میں اس وقت ساری داستان نہیںلکھ سکتا اگرچہ میں پورے طور سے شاہد عینی کے طور پر اس سے واقف ہوں۔اس تکبر اور رعونت نے انہیں حق سے دُور ڈالنا شروع کردیا۔ آخری مرتبہ وہ منشی عبدالحق کوساتھ لیکر قادیان آئے اور حضرت اقدس سے ملاقات کی اور اپنے الہام وغیرہ سناتے رہے ۔ شام کے وقت بغیر کسی ارادے اور تجویز کے حضرت مخدوم الملۃ مولانا مولوی عبدالکریم صاحب رضی اللہ عنہ نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے سوال کیا کہ بلعم حضرت موسیٰ علیہ السلام کے مقابلے میں باوجود اپنی نیکی کے کیوںرد کردیاگیا؟ اس پر حضرت اقدس نے ایک تقریر کی لیکن منشی الٰہی بخش نے