علیہ الصلوٰۃ والسلام کی خدمت کا بہت بڑا موقع دیا اور ان کے بعد ان کی اولاد بھی سلسلہ کی خادم رہی اور ان کی صاحبزادیاں اپنے علم و فضل کے لحاظ ممتاز اور خدمت سلسلہ میں مصروف ہیں۔ خاکسار عرفانی کبیر کو یہ عزت اور فخر حاصل ہے کہ کچھ عرصہ تک ہجرت کے ابتدائی ایام میں مولوی محمد شادی خاں صاحب کو الحکم کی خدمت کی سعادت نصیب ہوئی اور پھر ان کے صاحبزادہ مرحوم عبدالرحمن کو بھی موقعہ ملا۔ مولوی شادی خان کو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام سے عشق تھا اور وہ ایک وفادرار اور جان نثار احمدی تھے۔ سلسلہ کی تحریکوں پر ایسے کام کر گزرتے تھے کہ لوگ حیران رہ جاتے تھے منارۃا لمسیح کے چندہ میں سب کچھ دے دیا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے فرمایا سو آدمیوں کا ایک خاص گروہ تجویز فرمایا تھا کہ جو جو ایک ایک سو روپیہ دے دے ان میں حضرت شادی خان بھی تھے انہوں نے گھر کا سازوسامان فروخت کر کے دوسو روپیہ دے دیا۔ ابھی وہ اعلان شائع نہیں ہو اتھا کہ ان کوعلم ہو ااور انہوں نے روپیہ بھیج دیا۔ حضرت اقدس نے اس اشتہار میں ان کی نسبت تحریر فرمایا کہ۔ دوسرے مخلص جنہوں نے اس وقت بڑی مردانگی دکھائی ہے۔ میاں شادی خاں لکڑی فروش ساکن ہیں ابھی وہ ایک کام میں ڈیڑھ سو روپیہ چندہ دے سکتے ہیں اور اب اس کام کے لئے دو سو روپیہ چندہ بھیج دیا ہے اور یہ وہ متوکل