شخص ہے کہ اگر اسے گھر کا تمام اسباب دیکھا جائے تو شاید تمام جائیداد پچاس روپیہ سے زیادہ نہ ہو اور انہوں نے اپنے خط میں لکھا ہے۔ چونکہ ایام قحط میں اور دینی تجارت میں صاف تباہی نظر آتی ہے تو بہتر ہے کہ ہم دینی تجارت کر لیںاس لئے جو کچھ اپنے پاس تھا سب بھیج دیا اور درحقیقت وہ کام کیا جو حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کیا تھا (اشتہار خاص گروہ) یہ صرف تعارفی نوٹ ہے ان کے حالات زندگی اللہ تعالیٰ نے چاہا تو کتاب تعارف میں تفصیل سے لکھنے کاعزم ر کھتا ہوں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے ان خاص اور صدق و وفا کو دیکھ کر انہیں وہ شرف بخشا حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کا مثیل قرار دیا۔ خاکسار عرفانی کبیر سے ان کو للہ محبت تھی اور میں تو ان کے مقام کو بہت عزت و احترام سے دیکھتا ہوں مگر اپنے اخلاص کی وجہ سے وہ خاکسارعرفانی کبیر کا احترام کرتے تھے اور ……ان کی اپنی خوبی تھی ورنہ من آنم کہ من وانم۔اب میں ان کے نام کے مکتوبات درج کرتا ہوں۔ وباللہ التوفیق۔ میں یہ بھی ذکر کر دینا ضروری سمجھتا ہوں کہ یہ مکتوبات عزیز مکرم میاں فضل حسین مہاجز کی کوشش کا نتیجہ ہیں اس لئے معہ ان کے نوٹ کے درج کرتا ہوں۔ (عرفانی کبیر)