میں وحدت تھی اور شہر میں ایسا رہتا تھا جیسا کہ ایک شخص جنگل میں مجھے اس زمین سے ایسی محبت ہے جیسا کہ قادیان سے۔ کیونکہ میں اپنے اوائل زمانہ کی عمر میں سے ایک حصہ اس میں گزار چکا ہوں اور اس شہر کی گلیوں میں بہت سا پھر چکا ہوں۔ میرے اس زمانہ کے دوست اور مخلص اس شہر میں ایک بزرگ ہیں یعنی حکیم حسام الدین جب جن کواس وقت بھی مجھ سے بہت محبت رہی ہے۔ وہ شہادت دے سکتے ہیں کہ وہ کیسا زمانہ تھا اور کیسی گمنامی کے گڑھے میںمیرا وجود تھا۔ اب میں آپ لوگوں سے پوچھتا ہوں کہ ایسے زمانے میں ایسی عظیم الشان پیشگوئی کرناکہ ایسا گمام کاآخر کار یہ عروج ہوگا کہ لاکھوں اس کے تابع اور مرید ہو جائیں گے اور فوج در فوج لوگ بیعت کریں گے اور باوجود دشمنوں کی مخالفت اور رجوع اخلائق میں فرق نہیں آئے گابلکہ ا س قدر لوگوں کی کثرت ہو گی کہ وہ قریب ہو گا کہ وہ لوگ تھکاوین کہ یہ انسان کے اختیار میں ہے اور کیا ایسی پیشگوئی کوئی مکار کر سکتا ہے کہ چوبیس سال پہلے تنہائی اور بے کسی کے زمانے میں اس عروج اور مرجع خلائق ہونے کی خبر دے کتاب براہین احمدیہ جس میں پیشگوئی ہے کوئی گمنام کتاب نہیں بلکہ وہ اس ملک میں مسلمانوں عیسائیوں اور آریہ صاحبوں کے پاس بھی موجود ہے او رگورنمنٹ کے پاس بھی موجود ہے۔ اگر کوئی عظیم الشان نشان میں شک کرے تو ا س کو دنیا میں اس کی نظیر دکھلانا ہے۔ سیالکوٹ میں کئی نشانات آپ کی صداقت کے اس زمانے میں