عزم درست اور استقامت اور خداتعالیٰ کے سامنے صدق و صفا آخر کامیاب کر دیتا ہے مگر صبر درکار ہے۔
خاکسار
مرزا غلام احمد عفی عنہ
(نوٹ) اس مکتوب میں بعض جملے پڑھے نہیں گئے پھٹ گئے ہیں تاہم اس مکتوب میں دعائوں کی قبولیت کے لئے ایک اصل فرمایا ہے کہ عزم صحیح اور استقامت کو نہ چھوڑا جائے اور پھر یہ بھی فرمایا ہے کہ ہر آدمی اس کا اہل نہیں ہوتا کہ انسان اس کی بیعت کرے بلکہ احق اور اولی لوگ ہیں جن کووجود خدا نما ہو۔
(عرفانی کبیر)
۵/۶۳ ۔ محبی اخویم حافظ تصور حسین صاحب سلمہ۔ السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔
یہ درست ہے کہ خداتعالیٰ کی عطاکردہ جو انسانی قوی یعنی روحانی اور جسمانی قوتیں ہیں اسی کے راہ میں خرچ کرنی چاہیئں لیکن اسرار کا پوشیدہ کرنا بھی ضروری ہے کہ ایک نااہل کے آگے معارف بیان نہیں کرنے چاہئیں جن کا وہ متجمل نہ ہو سکے اور مذہب وحدت شہود کی حقیقت اس مرتبہ تک پہنچنی چاہئے کہ گویا وحدت وجود کااس میں جلوہ ہے اور صرف قیل وقال کچھ چیز نہیں ہے۔ عمل ضروری ہے اور اس جگہ بعض آدمی ہمارے منشاء کے مطابق اپنی حالت درست کرنے میں سرگرم ہیں اور بعض ابھی حقیقت سے دور ہیں………
(نوٹ) یہ مکتوب نامکمل ہے اور نمبر ۱ اور نمبر ۲کے فقرات محض ربط کلام کے لحاظ سے میں نے لکھے ہیں اصل مکتوب کی نقل دریدہ ہے۔ اگر اللہ تعالیٰ نے چاہا اور اس کی پھر مکرر شائع کر دیا جائے گا۔
(عرفانی کبیر)