ادعیہ ماثورہ کے علاوہ اپنی زبان میں بھی دعائیں کرنی چاہئیں۔ یہ اس لئے اپنی زبان میں انسان اپنے اندر جذبات اور مطلوبات کو نہایت وضاحت سے بیان کر سکتا ہے اور وہ نفس مدعا کوسمجھتے ہوئے اپنے قلب میں جوش اور خشوع پید ا کرنے میں آسانی پاتا ہے جہاں تک میری تحقیقات ہے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام اس تعلیم میں پہلے شخص ہیں۔ عربوں کی زبان تو عربی تھی اس لئے ماثورہ ادعیہ کے وقت ان کے مفہوم اور منشاء سے واقف ہونے کی وجہ سے ان کے قلوب خشوع و خضوع سے بھر جاتے تھے مگر دوسری اقوام جب اپنی زبان میں بھی دعائیں نہ کریں وہ کیفیت پید انہیں ہو سکتی۔ اس مکتوب سے خود حضرت اقدس کے معمولات پر بھی روشنی پڑتی ہے۔ (عرفانی کبیر) ۴/۶۲۔محبی اخویم سلمہ السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔ سجدہ میں دعا یا حی یا قیوم برحمتک استغیت بہت پڑھو اصلاح نفس کے لئے جو نہایت مشکل امر ہے خدا تعالیٰ کافضل اور اس کی مددمانگتے رہو میں بھی انشاء اللہ دعا کروں گا۔ مگر ایسی ……بھی منت اللہ ہے۔موتی کتوں کے منہ میں ڈالنا مراد رکھتا ہے کہ نااہل کو تربیت کرنا نا اہل سے نیک امید رکھتا ہے۔ ہر آدمی کی بیعت سے پرہیز ضروری ہے۔ اے بسا ابلیں آدم دے دو ہست پس بہروستے نہ باید دا دوست