۳/۶۱ محبی اخویم حافظ صاحب
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
میں باباعث درد فم معدہ و کمر و دیگر حوارض بیمار رہا اور اب بھی بیمار ہوں مسجد بھی جانے سے معذور رہا۔ انسان کے لئے ہر وقت استغفار اور توبہ اور دعا جیسی کوئی بھی چیز نہیں ہے۔ ہمیشہ سوزو گداز کے ساتھ مرضات اللہ کی طلب میں مشغول رہنا چاہئے اورسستی سے آرام نہ کرنا چاہئے جب تک مطلب حاصل نہ ہوجاوے یہی کامیابی کی راہ ہے ما سوا اس کے تدبرّ سے درود شریف کو پڑھنا اورہر ایک موقعہ مناسب پر دعا کرنا چاہئے اور سب سے زیادہ خطرناک جلد بازی اوربد ظنی ہے اس سے بچنا چاہئے۔ نماز میں بہت دعا کرنی چاہئے۔ بجز قرآن شریف اور ادعیہ ماثورہ کے اپنی زبان میں اور میں دعا کروں گا۔
خاکسار
غلام احمد عفی عنہ
(نوٹ) اس مکتوب شریف سے واضح ہوتا ہے کہ آپ اپنے خدام کی عملی تربیت کس طرح فرماتے تھے۔ زمانہ حال کے پیروں او رمشایخ کی طرح غیر مسنون اور بد عتی طریقوں پر چہلہ کشیاں نہیں کراتے تھے بلکہ جو صحیح اور مجرب صراط مستقیم ہے اس پر لیجاتے تھے دعائو ں پر آپ کا بہت زور تھا اور استغفار اور درود شریف کے پڑھنے کی طرف خصوصیت سے توجہ دلاتے تھے اور یہ آپ کا خود تجربہ کردہ نسخہ تھا۔
دعائوں کے سلسلے میں آپ نے بھی اس امر کی طرف بھی توجہ کیا کہ