مولوی غلام رسول صاحب صدر قانون گو ۔انبالہ میںمنشی محمد بخش صاحب، ان چاروںصاحبوں نے سعی میںکچھ فرق نہیں کیا۔منشی عبدالحق صاحب نے سب سے پہلے اس کارِخیر کی طرف قدم رکھا اور جانفشانی سے کام کیا اور ان کی کوشش سے لاہور اور انبالہ اور کئی شہروں میںخریداری کتاب کی ہوئی اور اب بھی وہ بدستور سرگرم ہیں۔ کچھ حاجت کہنے کہانے کی نہیں۔ منشی الٰہی بخش صاحب نے سعی اور کوشش میں کچھ دریغ نہیں کیا اور منشی محمد بخش صاحب بھی بدل وجان مصروف ہیںاور حتی الوسع اپنی خدمت ادا کرچکے ہیں۔مگر پھر سے دوبارہ منشی عبدالحق صاحب و منشی الٰہی بخش صاحب کولکھا ہے اور میں یقین رکھتا ہوں کہ وہ سعی میںکچھ فرق نہ کریںگے او رنہ کیاہے۔ اور ان کے سوا دو تین آدمی او ر بھی ہیں کہ جنہوںنے حسب مقدار جوش اپنے کچھ خدمت کی ہے۔مگر بہتر ہے کہ ان کی اسی قدر خدمت پر قناعت کی جائے تا موجب کسی ابتلاء کانہ ہو ۔ ( ۱۵؍مارچ ۱۸۸۴ء ۱۶؍جمادی الاوّل ۱۳۰۱ھ) ضروری نوٹ مندرجہ بالا مکتوب کے متعلق مجھے نہایت درد دل کے ساتھ ایک ضروری امر کااظہار کرنا پڑتا ہے اور یہ مقام خوف ہے ۔جن بزرگوں کا اس مکتوب میںحضرت اقدس نے ذکر فرمایا ہے سوائے مولوی غلام رسول صاحب کے میں تینوںبزرگوں سے ذاتی واقفیت