وفا درد دل کے لئے بہت سہل بھی ہے۔ وہ وہ ہے کہ جو زمانہ دراز کے طلب کو بھی ایک ساعت سے کم سمجھتا ہے۔ بقول حافط
گویند سنگ لعل شود در مقام صبر
آئے شور و لیک نجون جگر شود
مگر افسوس کہ دنیا میں شتات کاروں۔ بد ظنوں کم ہمتوں کا فرقہ بہت ہے اور یہی لوگ محروم ازل سے ہیں چاہتے ہیں کہ ایک پھونک مارنے سے عرش معلی تک پہنچ جائیں اور اللہ فرماتا ہے احسب الناس ان یترکو اان یقوا آمنا وھم لا یفتنون۔
والسلام
خاکسار
مرزا غلام احمد
نوٹ۔ اس مکتوب کو مکررسہ کر پڑھو کہ اس میں سعادت کی علامت اور اس سے مقام رفیع کا بھی پتہ لگتا ہے۔ جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کا تھا۔
۲/۶۰ محبی اخویم مولوی تصور حسین صاحب سلمہ
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
آپ کا خط پہنچا میں اس وقت بیمار ہوں اور بہت ضعف ہے۔ خون بہت آیا ہے ا س لئے میں زیادہ جواب نہیں لکھ سکتا میرے نزدیک آپ کی خواب بہت عمدہ ہے کیونکہ اس میں شرح صدر کا لفظ ہے جو تسلی اور اطمینان پر دلالت کرتا ہے زیادہ لکھنے سے معذور ہوں۔ خداتعالیٰ فضل شامل حال رکھے آمین۔
والسلام
خاکسار
مرزا غلام احمداز قادیان
۴؍ مارچ ۱۹۰۵ء