راہگیروں نے جب یہ نظارہ دیکھا تو انہوں نے شور مچایا کہ ایک آدمی کو کیوں مارتے ہو اس شور پر بد معاش ان کو چھوڑ کر بھاگ گئے۔ اس طرح پر حافظ صاحب قادیان آ گئے اور پھر آکر نہ گئے تولکل حلال سے ان کو محبت تھی باوجود کہ ایک رنگ میں صوفیوں اور مشاخیوں کی زندگی بسر کی تھی مگر قادیان میں انہوں نے ہمیشہ محبت اور مشقت سے عا نہیں کیا۔ مختلف قسم کی تجارتیں کیں میں ذاتی طور پر جانتا ہو ں کہ وہ ایک قسم کی عسرت کی زندگی بسر کرتے تھے مگر کبھی حرف شکایت زبان پر نہ آتا تھا۔ آخر مقبرہ منشی آرام فرما ہوئے (رضی اللہ عنہ) یہ مختلف مکتوبات ان کے رقعہ جات کے جواب میں ہیں مجھے افسوس ہے کہ میرے پاس ان کے اور بھی خطوط کی نقل تھی مگر وہ خدا تعالیٰ کی مصلحت سے ضائع ہو گئے۔ (عرفانی کبیر) ۱/۵۹ محبی اخویم حافظ صاحب السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ آپ کا خط میں نے اوّل سے آخر تک پڑھ لیا ہے۔ یہ بات بہت درست ہے کہ سعید انسان کی علامت یہی ہے کہ جب تک گوہر مقصود ہاتھ نہ آوے سست نہ ہو اور کسل کی طرف مائل نہ ہو۔ کسی نے سچ کہا ہے گرنبا شدبد دست رہ بردن شرط عشق است درطلب مردن خدا تعالیٰ کی طلب بڑا مشکل کام ہے۔ گویا ایک موت ہے بلکہ درحقیقت موت ہے۔ پھر دوسری طرف عالی ہمت اور عالی فطرت اور