جب یہ کارڈ بریلی پہنچا تو وہ اس کارڈ کو لے کر تمام بریلی میں پھرے۔ ہر شخص کو خط دکھاتے اور کہتے کہ دیکھو یہ مرزا صاحب کی علمی لیاقت ہے۔ میرے خط کے جواب میں یہ کارڈ آیا۔ الغرض خوب مذاق اڑایا میں ان سے اسی سبب سے ناراض ہو گیا سلام علیک تک جاتی رہی۔ ایک لمبے عرصے کے بعد ملاقات ہوئی۔ میں نے بغیر سلام علیکم کہنے خطبہ الہامیہ ان کے سامنے رکھ دیا۔ انہوں نے اسے لے لیا اور دیر تک پڑھتے رہے ایک بجے کے قریب جوش سے انہوں نے اللہ اکبر کہا اور حضرت کو بیعت کا خط لکھ دیا اور لکھا کہ میرا دل حضور کے ملنے کو بہت چاہتا ہے۔ مگر میرے پاس کرایہ نہیں۔ حضور نے جواب لکھا کہ تولکل پر چلے آئو خط ملنے پر انہوںنے لکڑی کندھے پر رکھی اور چند روٹیاں پکوا کر لے آئے اور مجھے کہا کہ میں قادیان جا رہا ہوں میں حیران ہوا اور ان کوروکا کہ اس طرح نہیں جانا چاہئے انہوں نے حضرت کاکارڈ دکھلایا کہ یہ حکم ہے میں نے کہا کہ اچھی بات ہے اگر تولکل پر جانا ہے تو آج رات کو آپ روانہ کر دیں گے۔ لہذا رات کی گاڑی سے قادیان روانہ کر دیا۔
صوفی تصور حسین صاحب کی بیعت کے بعد بریلی میں اور بھی شور پڑ گیا۔ لوگ ان کے دشمن ہو گئے۔ ایک دفعہ جب کہ وہ گلی سے گزر رہے تھے تو لوگوں نے ان کوپکڑ لیا اور قتل کرنے کی نیت سے ان کے سینے پر چاقو رکھ دیا۔ صوفی صاحب نے اپنے دشمن سے کہا کہ تم اپنا کام کرو میں حضرت مرزا صاحب کو کبھی جھوٹا نہیں کہوں گا۔