(تعارفی نوٹ)
حافظ سید تصور حسین صاحب رضی اللہ عنہ، بریلی کے رہنے والے تھے حضرت سید عزیز الرحمن صاحب رضی اللہ عنہ بیعت کر کے بریلی پہنچے تو انہوں نے علم تبلیغ کو بلند کیا وہ نہایت جری اور نذیر عریاں تھے بریلی ایک خاص قسم کے علماء دین کا مرکز تھا اور اب بھی ہے ان کے جاننے سے وہاں احمدیت کا گھر گھر چرچا ہونے لگا اسی سلسلہ میں حضرت صوفی سید تصور حسین صاحب رضی اللہ عنہ کو سلسلہ کی طرف اولاً مخالفانہ رنگ میں توجہ ہوئی جو آخر انہیں سلسلہ حقہ ّ میں لے آئی حضرت سید عزیز الرحمن صاحب نے ان کے تذکرہ میں فرمایا
الغرض گھر گھر احمدیت کا چرچا تھا اس چرچے کی وجہ سے صوفی تصور حسین صاحب مرحوم و مغفور کو بھی توجہ ہوئی۔ ان کو شاعری کا شوق تھا اور اس وجہ سے تمام بڑے بڑے افرائے شہر سے ان کا تعلق تھا۔ عالم بھی تھے۔ حافظ بھی تھے قرآن خوب یاد تھا۔ انہوں نے حضرت مسیح موعود کو ایک خط دس بارہ صفحے کا لکھا اور تمام بڑے آدمیوں کو دکھایا کہ میں یہ خط مرزا صاحب کو بھیج رہا ہوں۔ سب نے اس خط کی بڑی تعریف کی۔ حضرت مسیح موعودعلیہ السلام کو جب یہ ملا تو انہوں نے مولوی عبدالکریم صاحب رضی اللہ عنہ سے فرمایا کہ اس خط کا جواب لکھ دو۔ مولوی صاحب نے ایک خط پر لکھا کہ حضور علیہ السلام فرماتے ہیں کہ یا تو ہماری کتابیں پڑھو یا ہمارے پا س آجائو۔