اس اجازت نامہ کے پڑھنے سے معلوم ہو گا کہ آپ کن لوگوں سے بیعت لینا چاہتے تھے اور بیعت لینے والے کے فرائض یہ یقین کرتے تھے؟ اس سے اس روح کا پتہ لگتا ہے جو آپ کے اندر اپنے خدام کے لئے تھی یعنی آپ اپنے خادموں کے لئے بہت دعائیں کرتے تھے تاکہ ان میں وہ تبدیلی پیدا ہو جاوے جو خدا تعالیٰ تک پہنچانے کا ذریعہ ہوتی ہے۔
مولوی ابوالخیر عبداللہ صاحب سابقون الاولون میں سے ہیں انہوں نے ۱۹ ؍رجب ۱۳۰۶ء کو بمقام لودہانہ بیعت کی تھی اوربیعت کرنے والوں میں ان کا نمبر پانچواں تھا جیسا کہ سیرۃ المہدی حصہ سوم کے صفحہ ۹ سے ظاہر ہوتا ہے چونکہ پہلے آٹھ نمبر کے احباب کے نام قیاس اوردوسری روایات کی بنا پر لکھے ہیں اس لئے مولوی صاحب کی سکونت کے متعلق بھی محض قیاس سے چارسدہ یا خوست لکھ دیا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ وہ تنگی تحصیل چارسدہ ضلع پشاور کے رہنے والے تھے اورسلسلہ میں پہلے آدمی تھے جن کو حضرت مسیح موعود علیہٰ السلام نے بیعت کی اجازت دی چنانچہ جو اجازت نامہ ان کو لکھ کر دیا گیا اسے میں نے مکتوبات ہی کے سلسلہ میں درج کر دیا۔
(عرفانی کبیر)
بسم اللہ الر حمٰن الر حیم : نحمدہ ونصلی علیٰ رسولہٰ الکریم
۱/۵۸ الحمداللہ والسلام علیٰ عبادہ الذین اصطفیٰ۔ ماٰ بعداز عاجز عابذ باللہ الصمد غلام احمد
بخدمت اخویم مولوی ابوالخیر عبداللہ پشاوری بعد از سلام علیکم روحمتہ اللہ وبرکاتہ، واضح باد۔ کہ چونکہ اکثر حق کے طالب کہ جو اس عاجز سے