تعارفی نوٹ
حضرت مسیح موعود علیہٰ السلام نے ایک زمانہ دراز تک لوگوں کی بیعت نہیں لی اورجب کبھی کوئی شخص بیعت کے لئے عرض کرتا تو آپ یہی فرماتے تھے کہ مجھے حکم نہیں یا میں مامور نہیں لیکن جب خدا تعالیٰ نے آپ کو بیعت لینے کے لئے مامور فرمایا تو آپ نے ۳۳ ؍مارچ ۱۸۸۹ء م ۲۰ رجب ۱۳۰۶ء کو لودہانہ میں بیعت لی یہ بیعت حضرت منشی احمد جان صاحب مرحوم و مغفورکے ایک مکان پر ہوئی جواس وقت دارالبعیت کے نام سے جماعت لودہانہ کے قبضہ میں ہے اس بیعت کے بعد سب سے پہلا آدمی جس کو حضرت مسیح موعود علیہٰ السلام نے بیعت کی اجازت دی وہ مولوی ابوالخیر عبداللہ صاحب ولد ابوعبداللہ احمد قوم افغان سکنہ تنگی تحصیل چار سدہ ضلع پشاور ہیں۔ افسوس ہے کہ آج ان کے تفصیلی حالات سے واقف نہیں تاہم میں اس کوشش اور فکر میں ہوں کہ ان کے حالات معلوم ہو سکیں۔ مکرمی صاحبزدہ سراج الحق صاحب بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے مولوی ابوالخیر صاحب کو دیکھا تھا تیس پینتیس سال کے خوش رو نوجوان تھے۔ میانہ قد تھا ذی علم اورمتقی انسان تھے۔ ان کے چہرہ سے رشد اورسعادت کے آثار نمایا ں تھے۔ حضرت مسیح موعود علیہٰ السلام نے جوا جازت نامہ مولانا ابوالخیر عبداللہ صاحب کو لکھ کر دیا تھا وہ تاریخ بیعت سے پورے ایک ماہ چھ دن بعد لکھا یعنی ۲۹؍ اپریل ۱۸۸۹ء مطابق ۲۸ شعبان ۱۳۰۶ء