بیعت کرنے کا اردہ رکھتے ہیں بوجہ ناداری سفر و دور دراز یا بوجہ کم فرصتی و مزاحمت تعلقات قادیان میں بیعت کے لئے پہنچ نہیں سکتے اس لئے باتباع سنت حضرت مولانا وسیدنا محمد مصطفی صلیٰ اللہ علیہ وسلم یہ قرین مصلحت معلوم ہوا کہ ایسے معذو رو مجبور لوگوں کی بیعت ان سعید لوگوں کے ذریعہ سے لے جاوے کہ جو اس عاجز کے ہاتھ پر بیعت کرچکے ہیں سو چونکہ آپ بھی شرف اس بیعت سے مشرف ہیں اور جہاں تک فراست حکم دیتی ہے رشد اور دیانت رکھتے ہیں۔ اس لئے دکالتاً اخذ بیعت کے لئے آپ کو یہ اجازت نامہ دیا جاتا ہے آپ میری طرف سے وکیل ہو کر اپنے ہاتھ سے بند گان خدا سے جو طالب حق ہوں بیعت لیں مگر انہیں کو اس بیعت سلسلہ میں داخل کریں جو سچے دل سے اپنے معاصی سے توبہ کرنے والے اوراتباع طریقہ نبویہ کے لئے مستعد ہوں اوران کے لئے دلی تضرع سے دعا کریں اورپھر نام ان کے بقید ولدیت و سکونت و پیشہ وغیرہ اس تصریح سے اصل سکونت کہاں ہے اورکس محلہ میں اور عارضی طور پر کہاں رہتے ہیں بھیج دیں۔ تا یہ عاجز ان کے لئے دعا کرنے کا موقع پاتا رہے اورپورے تعارف سے وہ یاد رہیں۔ والسلام علیٰ من اتبع الہدیٰ۔ راقم احقر عباد اللہ عبداللہ الصمد غلام احمد از قادیان ضلع گورداسپور پنجاب اٹھائیس شعبان ۱۳۰۶ء مطابق ۶۹؍اپریل ۱۸۸۹ء روز دوشہنبہ نشان مُہر الیس اللہ بکاف عبدہ مکرمی اخویم ڈاکٹر فیض محمد خان صاحب کو السلام علیکم پہنچا دیں اورہر ایک صاحب جو بیعت کریں مناسب ہے کہ براہ راست بھی اپنا اطلاعی خط بھیج دیں۔