یہ الہام اس کثرت سے باربار ہوا تھا جس کی تعداد خدا ہی کو معلوم ہے۔اس میں انواع اقسام کاوعدہ ہے ۔
غرض کریم میزبان تب کسی کو اپنی طرف بُلاتاہے کہ جب اس کے طعام کابندوبست کر لیتا ہے اور وہی لوگ اس کے خوانِ نعمت پر بُلائے جاتے ہیںجن کو اس عالم الغیب نے اپنی نظر عنایت سے چن لیاہے۔
سوجن کواس نے پسند کرلیاہے ان کووہ رد نہیںکرے گا اور ان کے خطیات کومعاف فرمائے گا۔اور ان پر راضی ہوگا ۔کیونکہ وہ کریم ورحیم اور بڑا وفادار اور نہایت ہی محسن مولی ہے۔ فسبحان للہ وبحمد ہ سبحان اللہ العظیم ۔
( ۶ ؍مارچ ۱۸۸۴ء م ۷؍ جمادی الاوّل ۱۳۰۱ھ)
(نوٹ ) اس مکتوب میںحضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی سیرۃ مطہرہ اور تعلق باللہ کی ایک شان نمایاںہے اور آپ کی جماعت کے لئے اللہ تعالیٰ کی طرف سے بشارت کے وعدہ ہیں جن کو آج ہم پورا ہوتے دیکھتے ہیں۔ الحمد للّٰہ علی ذالک۔
(۲) مخدومی مکرمی اخویم منشی احمد جان صاحب سلمہ للہ تعالیٰ
اسلام وعلیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
بعد ہذا کارڈ آں مخدوم پہنچا۔ سوال آپ کی طرف سے یہ ہے کہ اس کارخیر میںکتنے لوگ بصدق دل ساعی ہیں۔سو واضح ہو کہ آں مخدوم کے سوا چار آدمی ہیںکہ ارادت اور حسن ظن سے ساعی ہیں۔ پٹیالہ میںمنشی عبدالحق صاحب اکونٹنٹ دفتر نہر ،سرہند۔ ڈیرہ غازی خان میں منشی الٰہی بخش صاحب اکونٹنٹ پشاور میں