سو اس عاجز کی دانست میں مقلدین و غیر مقلدین کے عوام افراط وتفریط میں مبتلا ہو رہے ہیںاور اگر وہ صراط مستیقم کی طرف رجوع کریں حقیقت میں ایک ہی دین اسلام کا مغز اور لب لباب توحید ہے اسی توحید کے پھیلانے کی غرض سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم خداتعالیٰ کی طرف سے آئے اور قرآن شریف نازل ہوا۔
سو توحید صرف اس بات کا نام نہیں جو خداتعالیٰ کو زبان سے وحدہ لاشریک کہیں اور دوسری چیزوں کو خدا تعالیٰ کی طرح سمجھ کر ان سے مرادیں مانگیں اور نہ توحید اس بات کا نام ہے کہ گو بظاہر تقدیری اور تشریعی امور کا مبداء اسی کو سمجھیں۔ مگر اس کی تقدیر اور تشریع میں دوسروں کا اس قدر دخل روا رکھیں۔ گویا وہ اس کے بھائی بند ہیں۔ مگر افسوس کہ عوام مقلدین (حنفی) ان دونوں قسموں کی آفتوں میں مبتلا پائے جاتے ہیں۔ ان کے عقائد میں بہت کچھ شرک کی باتوں کو دخل ہے اور اولیاء کی حثیت کو انہوں نے ایسا حد سے بڑھا دیا ہے کہ ار باباً من دون اللہ تک نوبت پہنچ گئی ہے۔ دوسری طرف امور تشریعی میں آئمہ مجتہدین کی حثیت کو ایسا بڑھا دیا ہے کہ گویا وہ بھی ایک چھوٹے چھوٹے نبی بن گئے ہیں۔ حالانکہ جیسا امور قضا وقدر میں وحدت ہے۔ ایسا ہی تبلیغ کے کام میں بھی وحدث ہے۔
مقلم لوگ تب ہی راکشی پر آسکتے ہیں اور اسی حالت میںان کا ایمان درست ہو سکتا ہے جب صاف صاف یہ اقرار کردیں کہ ہم آئمہ مجتہدین کی خطاکو ہر گز تسلیم نہیں کریں گے۔ غضب کی بات ہے کہ غیر معصوم کو معصوم کی طرح مانا جاوے۔ ہاں بے شک چاروں امام