قابل تغطیم اور شکر گزاری ہیں۔ ان سے دنیا کو بہت فوائد پہنچے ہیں۔ مگر ان کو پیغمبر کے درجے پر سمجھنا۔ صفات نبوی ان میں قائم کرنا۔ اگر کفر نہیں ہے تو قریب قریب اس کے ضرور ہے۔
اگرآئمہ اربعہ سے خطا ممکن نہ تھا تو باہم ان میں صدہا اختلاف کیوں پیدا ہو گئے اور اگر ان سے اپنے اجتہادات میں خطا ہوئی تو پھر ان خطائوں کو ثواب کی طرح کیوں مانا جائے۔ یہ بری عادت مقلدین میں نہایت شدت سے پائی جاتی ہے ہر ایک دیانت دار عالم پر واجب ہے کہ ایسا ہی ان پر شدت توجہ سے حملہ کرے اور خدائے جلشانہ پر بھروسہ کر کے زید وعمرو کی ملامت سے ڈرے اور وہ لوگ جو مواحدین کہلاتے ہیں۔ اکثر عوام الناس ان سے اولیاء کی حالت اور مقام کے منکر پائے جاتے ہیں۔ ان میں خشکی بھری ہوئی ہے اور جن مراتب تک انسان بفضلہ تعالیٰ ہو سکتا ہے اس سے وہ منکریں۔ بعض جاہل ان میں سے آئمہ مجتہدین رضی اللہ عنہم سے ہنسی لیجا کرتے ہیں۔
سو ان حرکات بے جاسے وہ کافر نعمت ہے اور طریق فقر و توحید حقیقی و ذوق و شوق داہی محبت سے بالکل دور و مجہور پائے جاتے ہیں خدا تعالیٰ دونوں فریقوں کو براہ راست بخشے۔
۸؍ جون ۱۸۸۶ء