شاید ان مہینوں میں کسی ایسے مقام میں میرا قیام ہو جس میں با آسانی ملاقات ہو جائے مجھے اس وقت تالیف رسالہ ـ’سراج منیر‘‘ کے لئے نہایت مصروفیت اور خلوت ہے اور میری زندگی صرف احیاء دین کے لئے ہے اور میر ااصول دنیا کی بابت یہی ہے کہ جب تک اس سے بگلی منہ نہ پھیر لیں۔ ایمان کا بچائو نہیں۔ راحت و رنج گزرانے والی چیزیں ہیں۔ اگر ہم دنیا کے چند دم مصیبت و رنج میں کاٹیں گے تو اس کے عوض جادوانی راحت پائیں گے۔ بہشت انہیں کی وراثت ہے کہ جو دنیا کے دوزخ کو اپنے لئے قبول کرتے ہیں اور لذت عیش و عشرت دنیوی کے لئے مرے نہیں جاتے۔ دنیا کیا حقیقت رکھتی ہے اور اس کے رنج وراحت کیا چیز ہیں۔ آخری خوش حالی کی خواہش ہے۔ اس کے لئے یہی بہتر ہے کہ تکالیف دنیوی کو بانشراح صدر اٹھا وے او راس نابکار گھر کی عزت او رذلت کچھ چیز نہ سمجھے۔ یہ دنیا بڑا دھوکہ دینے والا مقام ہے۔ جس کو آخرت پر ایمان ہے وہ کبھی اس کے غم سے غمگین نہیں ہوتا اور نہ اس کی خوشی سے خوش ہوتا ہے۔
والسلام
۷؍ فروری ۱۸۸۷ء
مقلدین اور غیر مقلدین کے متعلق ایک اہم مکتوب
۲/۵۷ مخدومی مکرمی اخویم سلمہ۔ بعد سلام مسنون مقلدین و غیر مقلدین کے بارے میں جو آپ نے خط لکھا تھا اس میں کس فریق کی زیادتی ہے۔