میں ایک الہام یہ ہے من ربکم علیکم واحسن الٰی احیاکم یہ الہام اگرچہ بصورت ماضی ہے لیکن اس سے استقبال مراد ہے اور اس کے معنی یہ ہیں کہ خداتعالیٰ تم پر احسان کرے گا اور تمہارے دوستوں سے نیکی کرے گا اور پھر حصہ چہارم صفحہ ۲۴۲میں الہام ہوا وبشرالذین امنو ان لھم قذم صدقٍ عند ربھم اس کے معنی ہیںکہ جو لوگ ارادت سے رجوع کرتے ہیںان کا عمل مقبول ہے اور ان کے لئے قدم صدق ہے ۔پھر صفحہ ۲۴۱ میںایک الہام ہے ۔ ینصرک رجال نوحی الیھم من السماء یعنی تیری مد د وہ کریں جن کے دلوں میںہم آپ ڈالیں گے۔ سو ان سب الہامات سے خوشنودی حضرت احدیت کی نسبت سمجھی جاتی ہے۔جن کو خدا نے اس طرف رجوع بخشا ہے اس سے زیادہ ذریعہ حصول سعادت اور کوئی نہیںکہ جومرضی مولا ہے اس کے موافق کام کیاجائے اور مولا کریم کی ایک نظر عنایت انسان کے لئے کافی ہے ۔میںیقیناً سمجھتا ہوںکہ جو اخوان مومنین اس بات کی توفیق دے گئے ہیں۔ جو انہوں نے صدق دل سے اس احقر عباد کاانصار ہونا قبول کیا ان کے لئے حضرت احدیت کے بڑے بڑے اَجر ہیں اور میں اجمالی طور پر ان کو عجیب نور سے منور دیکھتا ہوں اور میںدیکھ رہاہوں کہ وہ نہایت سعید ہیں اور دنیا کی روشنی ہیں۔ ایک الہام حصہ چہارم کے صفحہ ۵۵۶ کی آخری سطر میںدرج ہے اور وہ یہ ہے۔ وجا عل الذین ابتعوک فوق الذین کفروا الی یوم ا لقیامۃ ۔