لکھنے یا کوئی جملہ نوٹ کرنے کی اجازت ہو گی اورجو جس کے جی میں آئے گا حاضرین میں سے رفع اعتراض و شک کے لئے بولے گا۔ میں لاہور نہیں جاتا مرزا ہی سہارنپور آجائے اور میں بھی سہارنپور آجاؤں گا حضرت اقدس علیہٰ السلام نے فرمایا کہ کیا بودا پن ہے اور کیسی پست ہمتی ہے کہ اپنی تحریر نہ دی جائے تحریر میں بڑے بڑے فائدے ہیں کہ حاضرین و غائبین اور نزد یک دور کے آدمی بھی فائدہ اٹھا سکتے ہیں اورفیصلہ کرسکتے ہیں زبانی تقریر محدود ہوتی ہے جو حاضرین اورسامعین تک رہ جاتی ہے حاضرین و سامعین بھی تقریر سے پورا فائدہ اور کامل فیصلہ نہیں کرسکتے مولوی صاحب کیوں تحریر دینے سے ڈرتے ہیں۔ ہم بھی تو اپنی تحریر دیتے ہیں گویا ان کا یہ منشی ہے کہ بات بیچ بیچ میں محبث ہو کر رہ جائے اگر گڑبڑ پڑ جائے اور سہارنپور میں مباحثہ ہونا مناسب نہیں ہے۔ سہارنپور والوں میں فیصلہ کرنے یا حق و باطل کی سمجھ نہیں ہے۔ لاہور آج دارالعلوم اور مخزن علم ہے اور ہر ایک ملک اور شہر کے لوگ اور مذہب و ملت کے اشخاص وہاں موجود ہیں۔ آپ لاہور چلیں اورمیں بھی لاہور چلتا ہوں اورآپ کا خرچ آمدورفت اورقیام لاہور بحث تک اورمکان کا کرایہ اور خرچ میرے ذمہ ہو گا۔ سہارنپور پہلے اہل علم کی بستی نہیں۔ سہارنپور سوائے شور شر اور فساد کے کچھ نہیں ہے۔ یہ مضمون میںنے لکھ کر اور حضرت اقدس علیہٰ السلام کے دستخط کرا کر گنگوہ بھیج دیا۔ مولوی رشید احمد صاحب نے اس کے جواب میں پھر یہی لکھا کہ میں لاہورنہیں جاتا صرف سہارنپور تک آسکتا ہوں اوربحث تحریری مجھے منظور نہیں نہ میں خود لکھوں اور نہ کسی دوسرے شخص کو لکھنے کی اجازت بھی دے سکتا ہوں۔