حضرت اقدس نے اس خط کو پڑھ کر فرمایا کہ ان لوگوں میں کیوں قوت فیصلہ اور حق وباطل کی تمیز نہیں رہی اور ان کی سمجھ بوجھ جاتی رہی یہ حدیث پڑھاتے ہیں اور محدث کہلاتے ہیں۔ مگر فہم وفراست ہے ان کو کچھ حصہ نہیں ملا صاحبزادہ صاحب ان کو یہ لکھ دیں کہ ہم مباحثہ کے لئے سہارنپور ہی آجائیں گے آپ سرکاری انتظام کر لیں جس میں کوئی یورپین افسر ہو اور ہندوستانیوں پر پورا طمنان نہیں ہے بعد انتظام سرکاری ہمیں لکھ بھیجیں اورکاغذ سرکاری بھیج دیں میں تاریخ مقرر پر آجاؤں گا اورایک اشتہار اس مباحثہ کی اطلاع کے لئے شائع کر دیا جائے گا تاکہ لاہور وغیرہ مقامات سے صاحب علم اور دلچسپی رکھنے والے سہارنپور آجائیں گے۔
ورنہ ہم لاہور میں سرکاری انتظام کر سکتے ہیں اورپورے طور سے کر سکتے ہیں۔ تقریری اور تحریری مباحثہ اس وقت رکھیں تو بہتر ہے جیسی حاضرین جلسہ کی رائے ہو گی۔ کثرت رائے پر ہم تم کاربند ہوں خواہ تحریری خواہ تقریری جو مناسب سمجھا جائے گا وہ ہوجائے گا۔ آپ مباحثہ ضرور کریں کے لوگوں کی نظریں آپ کی طرف لگ رہی ہیں۔
یہ تقریر میں نے مولوی صاحب کو لکھ بھیجی۔ مولوی صاحب نے کچھ جواب نہ دیا صرف اس قدر لکھا کے انتظام کا میں ذمہ دار نہیں ہو سکتا ہوں۔ پھر میں نے دوتین خط بھیجے جواب ندارد۔