جب کسی مولوی صاحب کو مقرر کی جگہ نہ رہی اور سراج الحق سے مخلصی نہ ہوئی اور لاہور کی ایک بڑی جماعت کا خط پہنچا اور ادھر حضرت اقدس کی خدمت میں بھی اس لاہور کی جماعت کی طرف سے مولوی رشید احمد کے مباحثہ کے لئے درخواست آ گئی اور اس جماعت نے یہ بھی لکھا کہ مکان مباحثہ کے لئے اور خورد و نوش کا سامان ہمارے ذمہ ہے اور میں نے بھی مولوی صاحب کو یہ لکھا کہ اگر آپ مباحثہ نہ کریں گے اور ٹال مٹال جائیں گے اور کچے پکے کاغذوں سے جان چھڑا دیں گے تو تمام اخبارات میں آپ کے اور ہمارے خط چھپ کر شائع ہو جائیں گے پڑھنے والے آپ نتیجہ نکال کر کے مطلب و مقصد اصلی حاصل کر لیں گے۔
پھر دوسرے موقعہ پر حضرت اقدس نے فرمایا مولوی رشید احمد صاحب گنگوہی کو ضرور لکھو اور حجت پوری کرو او ریہ لکھو کہ اچھا ہم بطریق متنزل تقریری مباحثہ ہی منظور کرتے ہیں۔ مگر اس شرط سے کہ آپ تقریر کرتے جائیں اور دوسرا شخص آپ کی تقریر کو لکھتا جاوے اور جب ہم تقریر کریں تو ہماری جوابی تقریر کوبھی دوسرا شخص لکھتا جاوے اور جب تک ایک کی تقریر ختم نہ ہو تو دوسرا فریق بالمقابل یا اور کوئی دوران تقریر میں بولے پھر وہ دونوں تقریریں چھپ کر شائع ہو جائیں۔ لیکن بحث مقام لاہور ہونی چاہئے۔ کیونکر لاہور دارالعلوم ہے اور ہر علم کا آدمی وہاں پر موجود ہے۔
میں نے یہی تقریر حضرت اقدس امام ہمام علیہ السلام کی مولوی صاحب کے پاس بھیج دی۔ مولوی صاحب نے لکھا کہ تقریر صرف زبانی ہو گی