یہ مولوی حامیان دین اورمحافظ اسلام کہلا کر اتنا نہیں سمجھتے کہ اگر کوئی ان کی جائیداد دبالے اورمکان اور اسباب پر قبضہ کر لے تو یہ لوگ عدالت میں جا کھڑے ہوں اورلڑنے مرنے سے بھی نہ ہٹیں اور نہ ٹلیں اور جب تک کہ عدالت فیصلہ نہ کرے اورآپ یہ بہانے بتاتے ہیں۔ کہ ہمیں کیا غرض ہے۔ گویا یوں سمجھو کہ ان کو دین اسلام اور ایمان سے کچھ غرض نہیں رہی اوراب یہ حیلہ و بہانہ کرتے ہیں کہ ہمیں کیا غرض ہے۔ اگران کے پا س کوئی دلیل نہیں اوران کے ہاتھ پلے کچھ نہیں ہے اوردر حقیقت کچھ نہیں ہے۔ ان کے باطل اعتقاد کا خرمن جل کر راکھ ہو گیا یہ اگر اس بحث میں پڑیں توا ن کی مولویت کو بٹہ لگتا ہے اوران کے علم و فضل کو سیاہ دھبہ لگتا ہے۔ ان کی پیروی پر آفت آتی ہے۔ ان کو لکھو کہ مولوی صاحب آپ تو علم لدنی اورباطنی کے بھی مدعی ہیں اگر ظاہری علم آپ کو مدد نہ دے باطنی اورلدنی علم سے ہی کام لیں یہ کس دن کے واسطے رکھا ہوا ہے۔ پس میں نے یہ تقریر حضرت اقدس علیہٰ السلام کی اور کچھ اور تیز الفاظ نمک مرچ لگا کے قلم بند کر کے مولوی صاحب کے پاس بھیج دی۔ اس کے جواب میں مولوی رشید احمد صاحب گنگوہی نے یہ لکھا میںتقریری بحث کرنے کو تیار ہوں اور مرزا صاحب تحریری بحث کرنا چاہیں تو ان کا اختیار ہے میں تحریری بحث نہیں کرتا۔ لاہور سے بھی بہت سے لوگوں کی طرف سے ایک خط مباحثہ کے لئے آیا ہے۔ مرزا چاہے تقریری بحث کرے۔