ہو گئی تو نزول بھی ثابت ہو گیا اور جو وفات ثابت ہو گئی تو نزول خود بخود باطل ہو گیا۔ جب ایک عہدہ خالی ہو تو دوسرا اس عہدہ پر نامور ہو۔ ہمارے دعوے کی بناء ہی وفات مسیح پر ہے اگر مسیح کی زندگی ثابت ہو جائے تو ہمارے دعوے میں کلام کرنا فضول ہے مہربانی فرماکر آپ سوچیں اور مباحثہ کے لئے تیار ہوجائیں کہ بہت لوگوں اور نیز مولویوں کی آپ کی طرف سے نظر لگ رہی ہے حضرت اقدس علیہ السلام نے اس پر دستخط کر دئیے اور میں نے اپنے نام سے یہ خط مولوی صاحب کے نام گنگوہ بھیج دیا۔
مولوی رشید احمد صاحب نے اس خط کے جواب میں یہ لکھا کہ افسوس ہے مرزا صاحب کو اصل کو فرع اورفرع کوا صل قرار دیتے ہیں مباحثہ بجائے تقریری کے تحریری مباحثہ میںنہیں کرتا اور ہمیں کیا غرض ہے اور ہمیں کیاغرض ہے کہ ہم اس مباحثہ میں پڑیں۔ یہ خط بھی میں نے حضرت اقدس علیہٰ الصلوۃ والسلام کو سنا دیا۔ آپ نے یہ فرمایا کہ ہمیں افسوس کرنا چاہیے نہ مولوی صاحب کیونکہ ہم نے تو ان کے گھر یعنی عقائد میں ہاتھ مارا ہے اور ان کی جائیداد پالی ہے اور حضرت عیسیٰ علیہٰ السلام کو جن پر ان کی بڑی بڑی امیدیں وابستہ تھیں اوران کے آسماں سے اترنے کی آرزو رکھتے تھے مار ڈالا ہے جس کو آسمان میں بٹھائے ہوئے تھے اس کو ہم نے زمین میں دفن کردیا ہے اوران کی امیدوں پر پانی پھیر دیا ہے اورمقبول ان مولویوں کے اسلام میں رخنہ ڈال دیا ہے اورلوگوں کو گھیر گھار کر اپنی طرف کر لیا ہے جس کا نقصان ہوتا ہے وہی روتا ہے اور چلاتا ہے