کس چیز کی کمی تھی اور میں بحث کو مرزا سے منظور کرتا ہوں۔ لیکن تقریری اور صرف زبانی تحریری مجھ کو ہر گز منطور نہیں ہے اور عام جلسہ میں بحث ہو گی او روفات و حیات مسیح میں کہ یہ فرع ہے بحث نہیں ہو گی۔ بلکہ بحث نزول مسیح میں ہو گی جو اصل ہے کتبہ رشید احمد گنگوہی۔
یہ خط مولوی صاحب کا حضرت اقدس علیہ السلام کو دکھلایا۔ فرمایا خیر شکر ہے کہ اتنا تو تمہارے لکھنے سے اقرار کیا کہ مباحثہ کے لئے تیار ہوں گو تقریری سہی ورنہ اتنا بھی نہیں کرتے تھے۔ اب اس کے جواب میں یہ لکھ دوکہ مباحثہ میں غلط مجث کرنا درست نہیں بحث تحریری ہونی چاہئے تاکہ غائبین کو بھی سوائے حاضرین کے پورا پورا حال معلوم ہو جائے اور تحریر میں غلط بحث نہیں ہوتا او ر زبانی تقریر میں ہو جاتا ہے تقریر کا کوئی اعتبار نہیں ہوتا اور اس کا اثر کسی پر پڑتا ہے اور نہ پورے طور سے یا درہ سکتی ہے اور تقریر میں ایسا ہونا ممکن ہے کہ ایک بات کہہ کر اور زبان سے نکال کر پھر جانے اور مکر جانے کا موقع مل سکتا ہے اور بعد بحث کے کوئی فیصلہ نہیں ہو سکتا اور ہر ایک کے معتقید کچھ کا کچھ بنا لیتے ہیں کہ جس سے حق و باطل میں التباس ہو جاتا ہے اور تحریر میں فائدہ ہے کہ اس میں کسی کو کمی بیشی کرنے یا غلط بات مشہور کرنے کی گنجائش نہیں رہتی ہے اور اب جو فرماتے ہیں کہ مباحثہ اصل میں جو نزول مسیح ہے ہونا چاہئے سوا س میں التماس ہے کہ مسیح اصل کیوں کر ہے اور وفات وحیات مسیح فرع کس طرح سے ہوئی اصل مسئلہ تو وفات حیات مسیح ہے۔ اگر حیات مسیح کی ثابت