ہل چل مچ جاتی ہے اور بحث اصل مسئلہ میں ہونی چاہئے یعنی عیسی علیہ السلام کی حیات و وفات میں۔ بس میں نے یہ خط لکھااور حضرت اقدس علیہ السلام کو ملاخط کراکے روانہ کر دیا ؎۔ اور آپ نے اس دستخط کر دئیے او رراقم سراج الحق نعمانی و جمالی سرساوی لکھا گیا مجھے مولوی رشید احمد صاحب کو لکھنا اس واسطے ضروری ہوا تھا کہ میں او رمولوی صاحب ہمزلف ہیں او رباوجود اس رشتہ ہمز لف ہونے کے تعارف اور ملاقات بھی تھی اور قصبہ سرسادہ او ر قصبہ گنگوہ ضلع سہارنپور میں ہیں اور ان دونوں قصبوں میں پندرہ کوس کا فاصلہ ہے اور ویسے برادرانہ تعلق بھی ہیں اور سری خوشد امن اور سسرال کے لوگ ان سے بعض مرید بھی ہیں۔ بس یہ میرا خط مولوی صاحب کے پا س گنگوہ جانا تھا اور مولوی صاحب او ران کے معتقدین اور شاگردوں میں ایک شور برپا ہونا تھا اور لوگوں کو ٹال دینا تو آسان تھا۔ لیکن اس خاکسار کوکیسے ٹالتے اور کیا بات بتائے پھر اس کے کہ مباحثہ کو قبول کرتے۔ مولوی رشید احمد صاحب نے اس خط کے جواب میں لکھا کہ مخدوم مکرم پیر سراج الحق صاحب پہلے میں اس بات کا افسوس کرتا ہوں کہ تم مرزا کے پا س کہاں پھنس گئے۔ تمہارے خاندان گھرانے میں