نے چند الہام سن کر جواب دیا تھا کہ الہام کاہونا کیا بڑی بات ہے۔ ایسے ایسے الہام تو ہمارے مریدوں کو بھی ہوتے ہیں۔ اس پر حضرت اقدس علیہ السلام نے فرمایا تھا کہ آپ کے مریدوں کو اگر ایسے الہام ہوتے ہیں تو وہ الہام ہمارے سامنے پیش کرنے چاہیئں تاکہ ان الہاموں کا یا آپ کے الہاموں کا کیونکہ مریدوں کو جب الہام ہوں تو مرشد کو تو ان اعلی الہام ہوتے ہوں گے موازنہ اور مقابلہ کریں اور لو تقول علینا بعض الا قاویل کی وعید سے ڈریں مولوی صاحب نے کہنے کو کہہ دیامگر کوئی الہام اپنا یا کسی اپنے مرید کا پیش نہیں کیا کہ یہ الہام ہمارے ہیں اور یہ ہمارے مریدوں کے ہیں۔ غرض کہ اب آپ کا حق ہے کہ اس بحث میں پڑیں اور مباحثہ کریں اور کسی طرح سے پہلو ہی نہ کریں کس لئے کہ ادھر تو حضرت عیسی علیہ السلام کی وفات کا زور شور سے بیان کرنا وفات کا دلیلوں یعنی لشوص صریحہ قرآنیہ اور حدیثیہ نے ثابت کرنا اور علماء اور آئمہ سلف کی شہادت پیش کرنا اور پھر مدعی مسیحیت کا کھڑا ہونا اور لوگوں کا رجوع کرنا اور آپ جیسے اور آپ سے بڑھ کر علماء ؎ کے مرید ہونے سے دنیا میں